اردو

ایران | روحانی: دشمن ہماری برآمدات کو نہیں روک سکتا


ایرانی صدر حسن روحانی نے بدھ کے روز کابینہ کے اجلاس میں کہا کہ امریکی حکومت کی یہ شیطنت ایران مخالف پالیسیوں کی ناکامی کو ظاہر کرتی ہے اور ان کے لئے ایک ہی راستہ ہے اور کوئی دوسرا راستہ نہیں اور وہ حق پر عمل درآمد، قوانین و ضوابط کی پاسداری، معاہدے پر عمل درآمد اور ایران کی عوام کو معاوضہ کی ادائیگی ہے۔

ڈاکٹر روحانی نے حالیہ برسوں میں معیشت کی بدترین صورتحال اور ملک کے اقتصادی ستونوں کی تباہی کو دشمن کا پہلا ہدف قرار دیا اور مزید کہا کہ وہ ہماری معیشت کے خاتمے کے بارے میں سوچ رہے تھے۔ گذشتہ دو سال اور تین ماہ ہمارے لئے مشکل گزرے ہیں لیکن نظام اور معیشت کی بدولت، لوگوں کی زندگی منظم تھی اور لوگوں کو وافر مقدار میں ضروری سامان دستیاب تھا حالانکہ ہم سامان کی قیمت میں اضافہ کے خواہاں نہیں تھے۔

ڈاکٹر روحانی نے یہ بیان کرتے ہوئے کہ حالیہ برسوں میں ملک کی برآمدات میں بھی اضافہ ہوا ہے کہا کہ خطے کے ممالک کو ایران کی برآمدات میں اضافہ ہوا ہے اور اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ دشمن معاشی میدان میں کامیاب نہیں ہوا ہے اور وہ ایران کی معیشت کی ترقی کو روکنے کے قابل نہیں رہا ہے۔

صدر نے کہا کہ یقینا دشمن کی معاشی جنگ اور جابرانہ پابندیوں نے ایسے مسائل پیدا کر دیئے ہیں جن کا ہمیں مل بیٹھ کر حل نکالنا چاہئے اور ان میں سے کچھ مسائل حل ہو سکتے ہیں۔

صدر نے مزید کہا کہ دشمنوں کی نئی پالیسی بہت خطرناک ہے۔ آئی سی اے او، سلامتی کونسل اور اقوام متحدہ کہاں ہیں؟ ممالک کو امریکہ کے خلاف ضرور بولنا چاہئے۔

ڈاکٹر روحانی نے کہا کہ ہم وائٹ ہاؤس کے رہنماؤں سے کہتے ہیں کہ ایران کے خلاف آپ کے لئے کوئی دوسرا راستہ نہیں ہے اور وہ ہے حقوق ، قوانین و ضوابط کا نفاذ اور ایرانی قوم کو ہونے والے نقصان کے معاوضہ کی ادائیگی۔ اگر آپ کو لگتا ہے کہ ایرانی قوم عاجز آ جائے گی تو یہ آپ کی غلطی ہے۔ ہمارے لوگ کبھی مایوس نہیں ہوں گے اور مزاحمت نہیں چھوڑیں گے۔