اردو

کولمبیا | ٹیکس اصلاحات کے خلاف پر تشدد مظاہرے ، 17 افراد ہلاک و 800 سے زائد زخمی


کولمبیا میں حکومت کے ٹیکس اصلاحات منصوبے کے خلاف حزب اختلاف کے پانچ روزہ مظاہروں کے دوران کم از کم 17 افراد ہلاک اور 800 سے زائد زخمی ہوئےہیں ۔

انسانی حقوق کے تحفظ کے لئے پبلک اتھارٹی کے جاری کردہ اعدادوشمار کے مطابق ملک کے تمام علاقوں میں 28 اپریل سے شروع ہونے والی عوامی تحریک کے دوران 16 شہری اور پولیس اہلکار ہلاک ہوگئے تھے اور 846 افراد زخمی ہوئے تھے ۔

مظاہروں کے دوران بدامنی پھیلانے کےجرم میں431 افراد کو گرفتار کیا گیا اور حکومت نے فوج کو متاثرہ شہروں میں تعینات کرنے کا حکم دیا ۔

کولمبیا کے وزیر دفاع ڈیاگو مولانو آپٹے نے اعلان کیا کہ ملک میں جاری وسیع پیمانے پر مظاہروں کے نتیجے میں ایک پولیس افسر ہلاک اور 840 سے زیادہ افراد زخمی ہوئے ہیں ۔ مولانو نے کہا کہ مظاہروں کے دوران پولیس کے 540 ارکان اور 306 شہری زخمی ہوئے ۔

وزیر دفاع مولانو نے جھڑپوں کے نتیجے میں پولیس افسر عیسیٰ البرٹو سولانو کی ہلاکت کی بھی تصدیق کی اور جاں بحق ہونے والے افراد کے اہل خانہ سے اظہار تعزیت کیا ۔ وزیر دفاع نے کہا کہ اتوار کے بعد سے اب تک افواج نے شہریوں کی سلامتی کو یقینی بنانے ، بنیادی سامان اور ایندھن کی فراہمی کے ساتھ ساتھ حفاظت کے لئے متعدد شہروں میں سیکیورٹی فورسز کو عارضی مدد فراہم کی ہے ۔

انہوں نے مزید کہا کہ احتجاج کے دنوں میں حکام کو تخریب کاری ، لوٹ مار اور دیگر جرائم کے بارے میں شہریوں سے 600 کے قریب اطلاعات موصول ہوئی تھیں اور بتایا گیا ہے کہ سیکیورٹی فورسز نے اب تک 431 افراد کو حراست میں لیا ہے ۔

کولمبیا کےوزیر دفاع نے تصدیق کی کہ پرتشدد واقعات کو "ایف اے آر سی" کے الگ الگ گروپوں نے جان بوجھ کر منظم ، اور مالی اعانت دی تھی جس نے سابقہ باغیوں اور نیشنل لبریشن آرمی کے ساتھ سن 2016 میں طے پانے والے امن معاہدے کو مسترد کردیا تھا جو کولمبیا میں آخری بغاوت ہے ۔

واضح رہے کہ15 اپریل کوحکومت نے ٹیکس اصلاحات کے منصوبے کو پارلیمنٹ کے سامنے پیش کیا جس کا مقصد 2022 سے 2031 کے درمیان ریاستی محصولات میں 6.3 بلین ڈالر کا اضافہ کرنا ہے تاکہ لاطینی امریکہ میں چوتھی معیشت کے لئے عوامی اخراجات کی مالی اعانت کی جاسکے ۔

کولمبیا کو نصف صدی کے بدترین معاشی بحران کا سامنا ہے۔سن 2020 میں جی ڈی پی میں 6.8 فیصد کمی جبکہ مارچ میں بے روزگاری کی شرح میں 16.8 فیصد کا اضافہ ہوا ہے جس کے باعثت ملک میں غربت کی سطح میں اضافہ 42.5 فیصد تک پہنچ گیا ۔

اگرچہ حکام نے اس بل کو واپس لے لیا تاہم ابھی تک ملک میں مظاہرے جاری ہیں کیونکہ مظاہرین نے نظام کے جائزہ لینے اور صحت کی دیکھ بھال کے شعبے میں اصلاحات ، ہنگاموں سے نمٹنے کے لئے "ایسماڈ" پولیس فورس کو تحلیل کرنے کا مطالبہ کیا۔ شہروں سے فوجی اور مظاہرین کے قتل کے ذمہ داروں کی سزا کو یقینی بنانے کا بھی مطالبہ کیا گیا ہے ۔