اردو

عراق | بلد امریکی ایئر فورس بیس پر راکٹوں کی بارش


عراقی ذرائع نے اعلان کیا ہے کہ عراق کے صوبہ صلاح الدین میں امریکہ کے دہشتگرد فوجیوں کی میزبانی کرنے والے بلد ایئربیس پر اس مرتبہ 8 راکٹ داغے گئے جس کے بعد شدید دھماکوں کی آوازیں سنائی دیں ۔

ذرائع نے ایسی تصاویر جاری کیں جن کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ یہ میزائل لانچر تھے جس نے قصبے کے ہوائی اڈے پر امریکی فریق کو نشانہ بنایا تھا ۔

سیکیورٹی میڈیا سیل نے اشارہ کیا کہ سیکیورٹی فورسز نے بلد ایئر بیس پر چار میزائل داغنے والے عناصر کی تلاش کے لئے ایک وسیع حفاظتی آپریشن شروع کیا ۔ انہوں نے اس پر غور کیا کہ ان اقدامات کا مقصد عراقی سیکیورٹی فورسز کی صلاحیتوں کو کمزور کرنا ہے ۔

بین الاقوامی اتحاد نے اپنے حصے میں کہا ہے کہ ایک میزائل حملے میں بلد اڈے کو نشانہ بنایا گیا ہے جس میں امریکی ٹھیکیدار بھی شامل ہیں ۔ تاہم پینٹاگون نے بلد ہوائی اڈے پر اپنی افواج کی موجودگی کی تردید کی تھی جس کو نشانہ بنایا گیا تھا ۔

واضح رہے کہ گذشتہ شب بغداد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر بھی دو راکٹ فائر کئے گئے ۔ ایر پورٹ پر 10 دنوں کے اندر اس طرح کا یہ دوسرا حملہ ہے ۔ ابھی تک کسی بھی گروہ نے اس حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے ۔ امریکی فوج کا دعوی ہے کہ اس حملے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا ہے ۔

واشنگٹن ایسے حملوں کی ذمہ داری حشد الشعبی پرعائد کرتا ہے جو ملک کی پارلیمنٹ اور عوام کے ساتھ مل کر امریکی فوجیوں کے انخلا کا مطالبہ کر رہے ہیں ۔

یاد رہے کہ کچھ عرصے سے عراق میں امریکی فوجی قافلوں اور اس کے ٹھکانوں پر راکٹ ، میزائیل اور بم حملے ہو رہے ہیں جس کی وجہ سے عراق میں ان کی نیندیں حرام ہو گئی ہیں ۔ عراقی عوام اپنے ملک میں امریکی فوجیوں کی موجودگی کی مسلسل مخالفت کرتے آ رہے ہیں ۔ عراقی پارلیمنٹ بھی عراق سے امریکی و غیر ملکی افواج کے انخلا کا بل منظور کر چکی ہے ۔