اردو

یمن | سیلاب کی تباہی ، سینکڑوں عمارتیں تباہ اور ہزاروں خاندان بے گھر


اقوام متحدہ نے منگل کے روز اعلان کیا ہے کہ اپریل کے وسط سے یمن کے ہزاروں خاندان بارشوں اور سیلاب سے متاثر ہوئے ہیں ۔ طوفانی بارشوں نے تباہ حال ملک کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے جسکے باعث کئی افراد کی اموات سمیت سینکڑوں عمارتیں تباہ ہوگئیں ہیں ۔

اقوام متحدہ کے انسانی امور کوآرڈینیشن دفتر نے ایک بیان میں کہا کہ ابتدائی اطلاعات سے معلوم ہوتا ہے کہ شدید بارشوں اور سیلاب سے تقریبا 3،700 سے زیادہ خاندان متاثر ہوگئے ہیں اور ان میں سے بیشتر اب بے گھر افراد ہیں ۔

انسانی امور کوآرڈینیشن دفتر کے مطابق گزشتہ کچھ دنوں کے دوران ہونے والی شدید بارشوں سے بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچا ، مکانات اور پناہ گاہیں تباہ ہوگئیں ہیں۔

معزول صدر عبدربہ منصور ھادی کی حکومت کے اعدادوشمارکے مطابق پیر کے روز وسطی حدراموت کے گورنری میں واقع تاریخی شہر تریم میں اچانک سیلاب سے چار افراد جاں بحق ہوگئے اور دیگر علاقوں میں تین دیگر افراد کی اموات ہوئی ہیں ۔

یمن شہر کی سڑکیں تالاب کا منظر ییش کررہی ہیں ۔ عمارتوں کےملبے کے نیچے گاڑیاں اور موٹرسائیکلیں دبی ہیں ۔

انسانی امور کوآرڈینیشن آفس کے مطابق سیلاب سے عدن ، ابیان ، الہالی ، لاہج ، ہدراماؤٹ ، ماریب اور طائز کے شہروں میں بڑے پیمانے پر نقصانات ہوئےہیں ۔

یمن ہر سال سیلاب میں درجنوں افراد جان کی بازی ہار جاتےہیں ۔ شدید طوفانوں اورسعودی اتحاد کی جنگ نے یمنیوں کی مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے ۔

اقوام متحدہ کے مطابق یمن دنیا کے بدترین انسانیت سوز بحران کا سامنا کر رہا ہے جس میں چالیس لاکھ سے زائد افراد بے گھر ہوئے جبکہ ملک کے تین کروڑ تیس لاکھ افراد میں سے دو تہائی بیرونی امداد پر منحصرہیں ۔

یمن پر سعودی اتحاد کی جنگ کے نتیجے میں ہزاروں افراد جاں بحق اور لاکھوں افراد فاقہ کشی کے دہانے پر ہیں ۔